نئی دہلی ، 14/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی ) رامپور صدر اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب کو چیلنج پیش کرنے والی مفاد عامہ عرضی (پی آئی ایل) پر سماعت سے سپریم کورٹ نے انکار کر دیا ہے۔ پیر کے روز اُس مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ رامپور صدر اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب میں کئی ووٹرس کو ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا تھا۔ عرضی دہندہ نے اس بنیاد پر ضمنی انتخاب کو رد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی بنچ نے عرضی دہندہ وکیل سلیمان محمد خان کو مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے میں انتخابی عرضی داخل کر سکتے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ ’’یہ انتخابی قانون کو الٹا کرنے کے برابر ہے۔ آپ رِٹ پٹیشن داخل کر کے انتخاب کو کیسے چیلنج کر سکتے ہیں؟ برائے کرم ایک انتخابی عرضی داخل کریں۔‘‘ ساتھ ہی بنچ نے کہا کہ ’’اب تو ریزلٹ بھی سامنے آ چکا ہے اور انتخابی عرضی کے علاوہ کسی عرضی پر غور نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
عرضی دہندہ سلیمان محمد خان نے بنچ کے مذکورہ تبصرہ پر اتفاق ظاہر کیا اور کہا کہ اگر انھوں نے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی ہوتی تو وہاں سماعت کے لیے کم از کم 10 دنوں تک لسٹیڈ نہیں ہوتی۔ ساتھ ہی انتخابی عرضی صرف ریزلٹ اعلان ہونے کے بعد ہی داخل کی جا سکتی ہے، اور انھوں نے عرضی اس سے پہلے داخل کی تھی۔
واضح رہے کہ رامپور صدر اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخاب میں بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کے درمیان قریبی مقابلہ ہوا تھا۔ دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے پر انتخابی عمل میں رخنہ ڈالنے کا الزام عائد کیا تھا۔ 8 دسمبر کو جب رامپور صدر اسمبلی سیٹ کا ریزلٹ سامنے آیا تو بی جے پی امیدوار آکاش سکسینہ فتحیاب قرار پائے۔ انھوں نے اعظم خان کے قریبی امیدوار عاصم رضا کو شکست دی تھی۔